ivirzivir Yükle

Bir Annenin Günahı 4. Bölüm Fragmanı

teşekkürler

Bunlarada Bak!

20 Yorum

  1. Bi dakika ya bu yağmur’un yayındaki kadın hanı sadri onu öldürmek için parayı verip sonra silah çeken ve çukuruya ettiren kadın dimi? yağmur ne alaka çok karışık

    Reply
  2. Çift güzel ama konu başka olsaydı keşke. Yağmurla Yusufun imkansız aşkı üzerinden ilerleyip bu öldürme olaylarını hiç katmasalar fakir kız zengin oğlan konusu bile olsa daha çok rating alırdı.
    Böyle bir zamanda iç karartan işler az rating alıyor

    Reply
  3. Bence bekirin suçu üstüne almasının sebebi Sadri beyin yaşamsı bence Sadri bey yaşıyor ve bekiri de suçu üstüne al ailene ben bakarım falan dedi çünkü sunanin da zarar görmesini istemiyor ileriki bölümlerde de cikicak meydana Sadri bey.

    Reply
  4. Senaristler sadriyi öldürmekle hata yaptı onun yerine şöyle olabilirdi: Sadri aslında hepsini planlamış kendini öldü gibi göstermiştir hastaneye kimsesiz ölmüş birini morga önceden taşıtıp yerleştirmiştir onun yerine gömülecek olan , doktorları ayarlayıp kendini öldü gibi göstermiştir ve başka isim ile hastanede kalmıştır . Suna polis karakolunun önündeyken kolundan tutup ölmedim ama kimseyede bunu söyleyemezsin diyebilir .

    Reply
  5. مرحبا إذا في شخص يتكلم عربي ياريت اتقول أنا اريد تردد القناة على القمر نايل سات يعطيني التردد ضروري جدا لأن أموت في المسلسلات التركية 😍😍😍😍

    Reply
  6. نصوح ایک عورت نما آدمی تھا، باریک آواز، بغیر داڑھی اور نازک اندام مرد.

    وہ اپنی ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا۔ کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا تھا سبھی اسے عورت سمجھتے تھے۔
    یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا تھا۔ کئی بار ضمیر کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کرلی لیکن ہمیشہ توبہ توڑتا رہا.

    ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی ۔حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گراں بہا گوھر (موتی یا ہیرا) کھوگیا ہے
    بادشاہ کی بیٹی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔
    سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملا
    نصوح رسوائی کے ڈر سے ایک جگہ چھپ گیا۔
    جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیں تو
    سچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی بارگاہ میں دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا، میری لاج رکھ لے مولا۔

    دعا مانگ ہی رہا تھا کہ اچانک باہر سے آوازسنائی دی کہ نصوح کو چھوڑ دو، ہیرا مل گیا ہے۔

    نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصت لے کر گھر آگیا ۔
    نصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کرلی۔

    کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرے لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا ہوں۔

    نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہیں اور اس کے ہاتھ سے مساج لینا پسند کرتی ہیں۔

    جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک
    پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔

    ایک دن اس کی نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاس
    چر رہی تھی۔
    اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے ، جب تک اس کا مالک نہ آ جائے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں،
    لہذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا۔

    کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آگیا جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھے
    انہوں نے نصوح سے پانی مانگا
    نصوح نے سب کو بھینس کا دودھ پلایا اور سب کو سیراب کردیا،
    قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھا
    نصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دیکھایا ۔
    نصوح کے اخلاق سے متاثر ہو کر تاجروں نے جاتے ہوئے اسے بہت سارا مال بطور تحفہ دیا۔

    نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھدوا دیا۔

    آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے لگے اور عمارتیں بننے لگیں۔
    وہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

    رفته رفته نصوح کی نیکی کے چرچے بادشاه تک جا پہنچے۔
    بادشاہ کی دل میں نصوح سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔
    اس نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف لے آئیں۔

    جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا اس نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا،
    بادشاہ کو بہت تعجب ہوا مگر اس بے نیازی کو دیکھ کر ملنے کی طلب اور بڑھ گئی۔ بادشاہ نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے تو ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔

    جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوا، خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔

    چونکہ بادشاہ بطور عقیدت مند نصوح کو ملنے آرہا تھا اور رعایا بھی نصوح کی خوبیوں کی گرویدہ تھی، اس لئے نصوح کوبادشاہ کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔

    نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا۔ وہی شہزادی جسے عورت کا بھیس بدل کر ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا ،اس شہزادی نے نصوح سے شادی کرلی۔

    ایک دن نصوح دربار میں بیٹھا لوگوں کی داد رسی کررہا تھا کہ
    ایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی ۔ بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملی ۔ برائے مہربانی میری مدد فرمائیں۔

    نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہے
    آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہاری بھینس کی وجہ سے ہے

    نصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔

    وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا:
    اے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے۔
    بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہارے امتحان کے لئے آئے تھے
    یہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہے
    یہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو،
    وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔

    اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو (توبه نصوح) کہتے ہیں. تاریخ کی کتب میں نصوح کو بنی اسرائیل کے ایک بڑے عابد کی حیشیت سے لکھا گیا ہے۔🇵🇰اگر تحریر اچھی لگے تو چینل کو سبسکرائب ضرور کردینا💐🌷🌷💐💐💐💐🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻💐💐🌼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼🙏🏼😇😇😇😇😇😇😇

    Reply

Yaz Birşeyler ya!

Benzer

Yüklen Yüklen

Login